
[Intro] [ہلکی پیانو دُھن، کشمیری بانسری دور سے] خوابوں کی وادی میں چلتا ہے تنہا خواجہ مہران خاموش سا سپنا [Verse 1] آنکھوں میں برفیلے پہاڑوں کی چمک دل میں جلے جلتا اک چھوٹا سا چراغ کہتا ہے رستہ کتنا بھی ہو تنگ میں ہار نہیں مانوں گا (میں ہار نہیں مانوں گا) [Pre-Chorus] ٹوٹے ہوئے دن بھی کل بن جائیں گے آنکھوں کے یہ آنسو رستہ دکھائیں گے [Chorus] اُڑ، خواجہ مہران، تُو اُڑ جا ذرا یہ کشمیر تیری آواز سنے گا گر بھی گیا تو پھر اُٹھ کے مسکرا تو ہے امید، تو ہے نیا سویرا (او ہو) دل کی صدا، تجھ میں خدا اُڑ، خواجہ مہران، بس خود پہ اِتنا بھروسا رکھ [Outro] [سب کچھ دھیرے، صرف پیانو اور بانسری] خاموش وادی مسکراتی ہوا خواجہ مہران چل پڑا دوبارہ
Try the #1 AI Music Generator today and turn your text into music instantly. Create professional, royalty-free songs in under 60 seconds.